بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی بری فوج کے ریٹائرڈ کرنل، امریکی وزارت جنگ کے سابق مشیر اور امریکی دفاعی کالجوں کے پروفیسر ڈگلس میک گریگور نے کہا: خطے میں امریکی موجودگی اور امریکی کنٹرول کا دور اختتام پذیر ہو چکا ہے؛ خلیج فارس کا مسئلہ ایران اور دوسرے ممالک حل کریں گے، اور امریکہ کا اس میں کوئی کردار نہ ہوگا۔
کرنل میک گریگور کا کہنا تھا:
یہ سوچنا کہ ہم ایران پر اثرانداز ہو رہے ہیں، غلط ہے، کوئی بھی ثبوت دستیاب نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ ہم ایران پر ایک ذرہ برابر اثر ڈال سکے ہیں۔
ہم بالکل واضح طور پر شکست کھا گئے ۔۔۔ مزید کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جو ٹرمپ انجام دے سکے اور طے نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کو بدل دے گا۔
ایران نے یہ حقیقت بالکل واضح طور پر ہمیں ثابت کرکے دکھائی ہے، اسی لئے وہ موجودہ انتظامیہ کے تحت امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ایرانی جانتے ہیں کہ نہ تو ہم ٹرمپ کی ذات کی حکمرانی کے تحت ہیں، اور نہ ہی امریکی عوام کی خواہشوں سے جوڑ رکھتے ہیں! یہ ادارے اور کچھ افراد ہیں جنہیں صہیونی ارب پتیوں سے خرید لیا ہے، یہ وہی لوگ ہیں جو امریکی معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں۔
چنانچہ ان صہیونیوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے، نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت بھی صرف وقت کا ضیاع ہے۔۔۔!
ایران ایک براعظمی طاقت ہے۔۔۔ وہ زمانہ مزید اختتام پذیر ہو چکا ہے جب امریکہ دنیا کی آبی گذرگاہوں کو کنٹرول کرتا تھا۔
اصل شکست بھی بالکل یہی ہے، لیکن ٹرمپ کہتا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لئے غیر معمولی کارنامے رقم کر رہی ہے!!
اچھا! تو امریکہ صرف آبنائے ہرمز کے باہر لنگر انداز ہے اور اصطلاحا پارکنگ کی حالت میں ہے، حقیقت یہی ہے۔
امریکی بحریہ ایران کے اچانک حملوں کے خوف سے اس قدر دور تعینات ہے، تاکہ اگر حملہ ہؤا تو انہیں نقصان نہ پہنچے۔
حقیقتاً امریکی بحریہ دنیا کی معیشت اور ہماری اپنی [امریکی] معیشت کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کیا کر رہی ہے؟!
امریکی بحریہ یقیناً قومی سلامتی کے لحاظ سے بھی ہماری کوئی مدد نہیں کر رہی ہے، چنانچہ آخرکار جو کچھ خلیج فارس میں ہو رہا ہے یہ ہے کہ غیر مغربی دنیا ـ یعنی ایران اور خطے اور دنیا کے دوسرے ممالک ـ خود ہی خلیج فارس کا مسئلہ حل کریں گے، نہ کہ ہم امریکی۔
یعنی: ایران اور دوسرے ممالک خلیج فارس کا مسئلہ حل کریں گے اور امریکہ کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ